Select Menu

پاک اردو ٹیوب

پاک اردو ٹیوب

اہم خبریں

clean-5

Islam

Iqtibasaat

History

Photos

Misc

Technology

کورونا وائرس: آئی پی ایل میچز انڈیا سے باہر کرانے کی تجویز

نڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے چیئرمین برجیش پٹیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا میں کمی نہ ہوئی تو انڈین پریمیئر لیگ کو کسی اور ملک منتقل کر دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آئی پی ایل کے چیئرمین برجیش پٹیل نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اگلے دو ماہ میں حالات بہتر نہ ہوئے تو انڈین پریمیئر لیگ کے میچز انڈیا کے علاوہ کسی اور ملک میں کھیلے جائیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ انڈیا میں ہی میچز کھیلنے کو تر جیح دی جائے گی لیکن اگر صورت حال بہتر نہ ہوئی تو پھر دیگر آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا کے کیسز انڈیا کے بڑے شہروں ممبئی، دہلی اور چنئی میں سب سے زیادہ ہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ منافع کمانے والے ٹی ٹوئنٹی ایونٹ کے میچز صرف دو مرتبہ انڈیا سے باہر منعقد ہوئے ہیں۔ 2009 میں جنوبی افریقہ نے آئی پی ایل کی میزبانی کی تھی جبکہ 2014 میں متحدہ عرب امارات میں یہ میچز منعقد ہوئے تھے۔
اس سال سری لنکا کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے ایک مرتبہ پھر آئی پی ایل کے میچز منعقد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پٹیل کا کہنا تھا کہ رواں سال اکتوبر اور نومبر میں آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ منعقد ہوگا، اس سے پہل ستمبر اور اکتوبر میں آئی پی ایل کے میچز منعقد کروانے کے لیے موقع تلاش کیا 
جائے گا۔ 
رلڈ کپ کے حوالے سے فی الحال انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
انڈین پریمیئر لیگ کے چیئرمین برجیش پٹیل کا کہنا ہے کہ فی الحال کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن کوشش کر رہے ہیں کہ پلان کے مطابق ہی تمام میچز منعقد ہوں۔ 
بی سی سی آئی کے صدر سارو گنگولی کا کہنا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کے میچز عموماً سات ہفتوں تک جاری رہتے ہیں لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے مختصر مدت کے لیے کھیلے جائیں گے۔
آئی پی ایل ٹورنامنٹ 29 مارچ کو شروع ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔
انڈین کرکٹ بورڈ کی بھرپور کوشش ہے کہ ٹورنامنٹ اسی سال منعقد کیا جائے۔
گنگولی کے مطابق کرکٹ بورڈ اسی سال ٹورنامنٹ منعقد کروانا چاہتا ہے چاہے خالی سٹیڈیم میں ہی کیوں نہ کھیلا جائے۔
انڈین پریمیئر لیگ کی منسوخی کی صورت میں کرکٹ بورڈ کو 500 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔ آئی پی ایل کے ذریعے انڈین معیشت کو11 ارب ڈالر سے زیادہ کا فائدہ ہوتا ہے۔

تحقیقات، کارروائی کے باوجود چینی کی قیمت کیوں کم نہیں ہو رہی؟




اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو شوگر ملز مالکان کو چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم جاری کیا جب کہ ہر گھر کی بنیادی ضرورتوں میں شمار کی جانے والی چینی پاکستان میں عام مارکیٹ میں 85 سے نوے روپے فی کلو ہی فروخت ہو رہی ہے۔
حکومت کی اس سال شوگر مافیا کے خلاف سرگرمی اور کیسز تحقیقاتی اداروں کو بھیجے جانے کے باجود چینی کی قیمتیں مارکیٹ میں کم کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟ گنے کے کاشتکار قصوروار ہیں، طاقتور شوگر مل مالکان یا پھر حکومتی ادارے جنہوں نے قیمتوں کا تعین اور اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے؟
اگر اس سلسلے میں ماضی کی تحقیقاتی رپورٹس اور حکومتی اداروں کی سفارشات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گنے کی امدادی قیمت کے تعین اور چینی کی درآمد پر پابندی جیسے اقدامات کی وجہ سے شوگر انڈسٹری کو حکومتی تحفظ  حاصل ہے۔ جس کے باعث مارکیٹ میں طلب و رسد کے اصول کے تحت چینی کی قیمت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف شوگر ملوں کے مالکان اتنے بااثر ہیں اور کارٹلز کی طرح ایک دوسرے کا ایسے تحفظ کرتے ہیں کہ ان کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔
شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار کا صرف 30 فیصد عام آدمی کے لیے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ باقی 70 فیصد انڈسٹری کو بیچ دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ شوگر کی پراڈکٹ سے چلنے والی انڈسٹری کے چند مالکان میں بھی وہی افراد ہیں جن کی چینی کی ملیں ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چینی کی مارکیٹ قیمت میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔


جو چینی دسمبر 2018 میں مارکیٹ میں  55.99 روپے کلو فروخت ہو رہی تھی اب 85 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ حکومت کے شوگر کمیشن کے مطابق چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے فی کلو ہونی چاہیے جو مارکیٹ میں چند روپے زیادہ پر فروخت کی جا سکتی ہے۔
تاہم حیرت انگیز طور پر یوٹیلیٹی سٹورز کی دستاویزات کے مطابق رواں  سال حکومت مل مالکان سے 79.50 روپے کلو کے حساب سے چینی یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے خریدتی رہی تاکہ عوام کو 68 روپے کلو بیچی جا سکے اور اس مقصد کے لیے اضافی رقم سبسڈی کی مد میں قومی خزانے سے ادا کی گئی۔

 حالیہ حکومتی کارروائی اور سفارشات

وفاقی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر اور رواں سال کے شروع میں چینی کی بڑھتی قیمتوں پر نوٹس لے کر ایک تحقیقاتی کمیشن بنا دیا تھا۔
کمیشن نے 21 مئی کی اپنی رپورٹ میں جہانگیر ترین اور حکومت میں شامل افراد سمیت چینی ملوں کے مالکان کو ناجائز منافع خوری اور حکومتی اداروں کو نااہلی میں کا قصوروار ٹھہرایا تھا. تاہم شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کے خلاف درخواست دائر کر دی۔
جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ انکوائری کمیشن عام آدمی کے لیے بنا تھا تاہم اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور (حکومت) کوکا کولا پر سبسڈی دے رہے ہیں۔
شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار کا صرف 30 فیصد عام آدمی کے لیے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے جب کہ باقی 70 فیصد انڈسٹری کو بیچ دیا جاتا ہے۔

چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے فی کلو ہونی چاہیے۔ فوٹو: اے پی

مل مالکان لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور ملی بھگت میں ملوث ہیں: شوگر کمیشن

وزیراعظم کی جانب سے قائم کیے گئے شوگر انکوائری کمیشن کے مطابق پاکستان میں چھ گروپس چینی کی پیداوار کا 51 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ یہ سیاسی اثر رسوخ والے مل مالکان جن میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار، سابق وزیراعظم نواز شریف کا خاندان، پیپلز پارٹی کی قیادت کے قریب سمجھا جانے والا اومنی گروپ اور دیگر شامل ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مارکیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں اور حکومتی پالیسی اور انتظامی امور پر اثرانداز ہوتے ہیں۔۔
شوگر کمیشن کے مطابق چینی مل مالکان لاگت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ گنے کی قیمت گزشتہ پانچ سالوں میں صرف دس روپے فی چالیس کلو بڑھی ہے اور وہ 180 روپے من سے 190 روپے ہو گئی جبکہ گزشتہ سال انہوں نے کاشتکاروں سے حکومتی امدادی قیمت 190 روپے فی من کے بجائے سستے داموں گنا خریدا۔
تاہم پچھلے سال گنے کی کم پیداوار کے باعث بعض کاشتکاروں نے 220 روپے من بھی گنا بیچا لیکن اس حساب سے بھی چینی کی قیمت مل ریٹ پر 63 روپے ہی بنتی ہے جبکہ 190 روپے من کا حساب کیا جائے تو چینی کی قیمت 57.59 ہونی چاہیے۔
کمیشن کے مطابق بعض مل مالکان نہ صرف کسانوں کو گنے کی کم قیمت دیتے ہیں بلکہ ان کے وزن کا تخمینہ بھی کم لگا کر اپنا خرچ بچا لیتے ہیں اور اس طرح کی خریداری کو ریکارڈ میں لائے بغیر اس سے چینی بنا لیتے ہیں اور بیچ بھی دیتے ہیں۔

گزشتہ ڈیڑھ سال میں چینی کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ فوٹو: پکسابے
تاہم حکومت کو صرف ریکارڈ بک میں موجود چینی کا حساب بتا کر نہ صرف ٹیکس بچاتے ہیں بلکہ اس اندرون کھاتہ مزدوری اور بجلی وغیرہ کے اخراجات کو بھی اپنی ریکارڈ بک والی چینی کی لاگت میں شامل دکھا کر چینی کی قیمت مہنگی کر دیتے ہیں۔ 
کمیشن کے مطابق ملیں گنے سے چینی کے علاوہ حاصل ہونے والے خام مال اور محصولات کے غلط تخمینے کے ذریعے لاگت کی قیمت بڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ مہنگی چینی بیچ سکیں۔ جو مزدور اور مشینیں گنے سے چینی کے علاوہ دیگر سامان بناتے ہیں ان کی تنخواہیں اور اخراجات  بھی چینی کے پیداواری خرچے میں ڈال کر لاگت زیادہ دکھائی جاتی ہے جو بین الاقوامی فنانشنل رپورٹنگ کے معیار (آئی ایف آر ایس) کے برعکس ہے۔
کمیشن کے مطابق اپنی لاگت غلط بتا کر گزشتہ سال صرف چھ  شوگر مل مالکان نے 53 ارب روپے کا منافع کمایا جس پر لاگو ٹیکس کم از کم 18 ارب روپے بنتا تھا جو قومی خزانے کو نہ مل سکا۔
کمیشن کے مطابق متعلقہ قانون کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترمیم کے ذریعے ملوں کی لاگت کا آڈٹ ختم کر دیا اور انہیں من مانی لاگت دکھانے کا موقع مل گیا۔

گنے کی قیمت اور ٹیکس کی وجہ سے قیمت بڑھی: مل مالکان

دوسری طرف پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے ایک ترجمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے  کمیشن کی رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دیا اور اس میں لگائے گئے تمام 
الزامات کو مسترد کر دیا۔ 
ایک شوگر مل کے مالک جو اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے رہتے ہیں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اردو نیوز سے گفتگو کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ تمام مل مالکان نے عدالت میں جانے سے قبل تہیہ کیا تھا کہ وہ میڈیا میں بیان جاری نہیں کریں گے۔ ’میڈیا، کمیشن سب ہمیں مافیا سمجھتے ہیں ہم تھک گئے ہیں ہم کس کس کو حساب دیں۔
 بزرگ مل مالک کا کہنا تھا کہ سب کی توجہ چینی کی صنعت پر ہے۔ ’میری گھی کی بھی مل ہے میں وہاں سے زیادہ منافع کماتا ہوں مگر وہاں نہ میڈیا جاتا ہے نہ کمیشن۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت بڑھنے کی وجہ گنے کی بڑھتی ہوئی قیمت اور حکومت کی طرف سے سیلز ٹیکس میں اضافہ ہے۔ گزشتہ سال ملوں نے گنا 240 سے 250 روپے فی کلو بھی خریدا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2017 میں چینی سستی نہیں پڑی تھی دراصل ملوں نے اپنی لاگت سے بھی کم قیمت پر چینی بیچی تھی کیونکہ پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ تھی اور اس وقت مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برآمد کی اجازت نہیں دی تھی تو خراب ہونے کے ڈر سے چینی سستی بیچی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مل مالکان تو نقصان میں جا رہے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ شوگر مل مالکان نقصان میں ہونے کے باجود ذاتی طیارے خرید لیتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جن کا جہاز ہے انہوں نے بینکوں کا 40 ارب روپے قرضہ دینا ہے۔ یہ لوگ خود کماتے ہیں خود کھاتے ہیں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر عوام کو 70 روپے کلو چینی نہیں بیچ سکتے کیونکہ ان کو 75 سے 78 روپے فیکٹری ریٹ پڑتی ہے۔